وفاقی حکومت اور کسان اتحاد کے آج بروز ہفتہ یکم اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔ کسان اتحاد نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو آخری وارننگ دے دی ہے۔
کسان اتحاد یونین کے سربراہ اور وفاقی حکومت کے درمیان آج بھی اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ مختصر وفد کے ہمراہ مذاکرات کیلئے پہنچے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں خالد حسین نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف ، طارق چیمہ کی وجہ سے مذاکرات نہیں کر رہے ہیں، تاہم رانا ثناءاللہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کی فی یونٹ ریٹ متعین کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات مان لیے گئے تو حکومت کا شکریہ ادا کرکے آج ہی واپس چلے جائیں گے۔
مذاکرات ناکام
دونوں جانب سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد خالد حسین جب باہر آئے تو انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت بھول جائے کہ آپ ڈرا دھمکا کر واپس کردیں گے، ہم رانا ثناءاللہ کو اخری وارننگ دے رہے ہیں۔ اج کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ہم اپنے لوگوں سے بات کریں گے کہ ہم نے ریڈ زون جانا ہے یا نہیں۔ اگلا لائحہ عمل ہمارا ریڈ زون جانا ہے۔
خالد باٹھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہمیں منگل تک وقت دیں، ہم آپ کے مطالبات پورے کریں گے، مگر حکومت سنجیدہ نہیں نظر آرہی، اج حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں تھا، ہم کسان مرنے کے لئے تیار ہیں،واپسی کا کوئی آپشن نہیں، ہم تین گھنٹے بعد پورے پاکستان کے کسانوں کو احتجاج کی کال دیں گے، ہم مشاورت کے بعد اگلے لائحے عمل کا اعلان کریں گے۔ رانا ثناءاللہ نے پیر کی رات کا وعدہ کیا ہے مگر آج رانا ثناءاللہ کے رویے میں تلخی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ کو مخالب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہ ہم آپ کے رویے سے ڈرنے والے نہیں، اب ہم پورے پاکستان کے کسانوں سے رابطہ کریں گے۔ ہمیں اپنے کسانوں سے مشاورت کے لئے دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اگر میرے دوستوں نے کہا کہ منگل تک انتظار کرنا ہے تو ہم یہاں رکیں گے۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی کسان اتحاد رہنماوں سے مذکرات کیلئے پہنچ گئے۔
کسان اتحاد دھرنا، ٹریفک پلان جاری
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسان اتحاد کے دھرنے کے تناظر میں ٹریفک پولیس کی جانب سے روٹ پلان جاری کردیا گیا ہے۔

0 Comments